حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ جنگ بندی کے بعد حالات ایک نئے رخ پر جاتے نظر آ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی ماننا اس بات کی علامت ہے کہ وہ میدانِ جنگ میں اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکا۔ اس کے برعکس ایران اور مزاحمتی قوتوں نے نہ صرف عسکری بلکہ سفارتی میدان میں بھی اپنی طاقت دکھائی ہے۔
آسان الفاظ میں کہا جائے تو اب خطے میں صرف جنگ نہیں بلکہ بات چیت اور سفارت کاری بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ ایران “طاقت کے ذریعے امن” کی پالیسی پر عمل کر رہا ہے، یعنی پہلے اپنی قوت دکھا کر پھر مذاکرات کی طرف آنا۔
اس پوری صورتحال میں حزب اللہ کا کردار بھی بہت اہم بتایا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس کی طاقت نے اسرائیل کو جنگ بندی پر مجبور کیا اور اب وہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر سامنے آئی ہے۔
دوسری طرف یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل اپنی پرانی حکمت عملی، یعنی خطرات کو مکمل ختم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اب وہ صرف حالات کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ عالمی سطح پر بھی یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ ایران کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا اور اس کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات ضروری ہو گئے ہیں۔
جنگ بندی کے دوران امریکہ اور اسرائیل کی کچھ کمزوریاں بھی سامنے آئیں۔ چالیس دن کی جنگ میں امریکی اڈوں کو نقصان پہنچا، جس سے یہ واضح ہوا کہ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو امریکہ کو زیادہ نقصان ہو سکتا ہے۔ اسی طرح ایران کے خلاف بحری محاصرہ بھی کامیاب نہیں رہا۔
امریکہ کو کئی مسائل کا سامنا ہے، جیسے مضبوط اتحاد نہ بنا پانا، دنیا کو اپنی بات پر قائل نہ کر پانا، اور اپنے ملک کے اندر معاشی اور سماجی دباؤ۔ اسرائیل بھی مسلسل جنگوں کی وجہ سے تھکن، اقتصادی نقصان اور سیاسی اختلافات کا شکار ہو رہا ہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر عارضی جنگ بندی ختم ہوئی تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ تیل اور خوراک کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں اور جنگ صرف خطے تک محدود نہ رہ کر عالمی سطح تک پھیل سکتی ہے۔
مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ جنگ بندی ایک نازک صورتحال ہے۔ اگر یہ برقرار رہی تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں، لیکن اگر ٹوٹ گئی تو اس کے اثرات پوری دنیا پر پڑ سکتے ہیں۔









آپ کا تبصرہ